صوبہ سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹہ میں قائم کورونا کنٹرول سینٹر کو دو روز قبل ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس میں شکایت کی گئی کہ تبلیغی جماعت کے لوگ محمد خان سومرو نامی گاؤں میں موجود ہیں اور مقامی آبادی ان کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

اس اطلاع پر انتطامیہ اور پولیس وہاں پہنچی اور دس افراد کو سول ہسپتال ٹھٹہ پہنچایا گیا۔

یہ شکایت یونین کونسل بجورا کے چیئرمین حسن سومرو نے کنٹرول سینٹر پر کی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور جب میڈیا میں یہ خبر آئی کہ رائیونڈ کے سالانہ اجتماع میں تبلیغی جماعت کے لوگوں میں بھی وائرس پھیلا ہے تو عوامی خدشات اور بڑھ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انہی خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے انھوں نے کنٹرول روم کو آگاہ کیا تھا۔

سول ہسپتال مکلی کے ایک اہلکار کے مطابق مختلف علاقوں سے انتظامیہ 20 کے قریب تبلیغی جماعت کے اراکین کو لائی تھی جن میں سے دو میں کورونا کی کچھ ظاہری علامات تھیں، انھیں وارڈ میں منتقل کیا گیا مگر کسی اور میں وائرس کی علامات نہیں پائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حوروں کی ہڑتال

تبلیغی جماعت کیا خاموش انقلاب ہے؟

مولانا طارق جمیل، ہمارا سٹریٹجک اثاثہ

بڑے ہو کر کیا بنو گے، مولانا طارق جمیل

حکومت سندھ کے محکمہ صحت نے تصدیق کی تھی کہ چار ایسے افراد میں کورونا وائرس پایا گیا ہے جو حال میں رائیونڈ اجتماع سے واپس لوٹے ہیں۔

تبلیغی جماعت نے 10 سے 12 مارچ تک رائیونڈ میں بین الاقوامی تبلیغی اجتماع منعقد کیا تھا جس میں ہزاروں مقامی اور غیر ملکی افراد نے شرکت کی تھی۔

ٹھٹہ سندھ کا واحد ضلع نہیں جہاں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو مخالفت اور مزاحمت کا سامنا ہے، لاڑکانہ ضلع کے قصبے سیھڑ میں ایک مسجد میں تبلیغی جماعت کے لوگوں کی موجودگی پر مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو شکایت کی جس کے بعد ڈوکری تحصیل سے محکمہ صحت کی ایک ٹیم نے آ کر ان کا طبی معائنہ کیا۔

تحصیل ہسپتال کے میڈیکل افسر عظیم شاہ نے بتایا کہ کسی میں بھی کورونا کی علامات پائی نہیں گئیں۔

خیرپور ضلع کے علاقے پکا چانگ میں بھی مقامی لوگوں نے پولیس کو شکایت کی لیکن پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ مقامی صحافی صداقت میمن کے مطابق تبلیغی لوگوں میں مقامی افراد کے علاوہ افغانستان اور دیگر ممالک کے لوگ بھی شامل تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی تبلیغی جماعت کی ٹولیوں کی مختلف مساجد اور علاقوں میں نشاندہی کی گئی، کئی لوگوں نے ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی پوسٹ کرتے ہوئے تبلیغی جماعت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔

سماجی ترقی کہ ایک عالمی ادارے سے منسلک مسعود لوہار نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ تبلیغی جماعت پر اگر پابندی نہ لگائی گئی تو پورے ملک میں وبا پھیل جائے. ان کے اسی مؤقف کی شہداد کوٹ کے رہائشی مراد پندرانی نے بھی تائید کی اور کہا کہ سندھ حکومت فوری طور پر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائے اور موجودہ حالات میں انھیں تبلیغ کرنے سے روکا جائے۔

کراچی سے شجاع قریشی نے بھی تبلیغ پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ لاڑکانہ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہاں پولیس اہلکاروں کو بھی تبلیغ پر بھیجا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ لاڑکانہ کے ایس ایس پی مسعود بنگش نے فرائص میں غفلت سمیت محکمہ جاتی غلطیوں کے مرتکب پولیس اہلکاروں کو تبلیغ پر بھیجا تھا۔

سندھی جریدے ’افیئر‘ کے مدیر علی احمد رند نے اپنے دوست کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا کہ ان کا دوست کورونا وائرس سے بچنے کے لیے کراچی سے بچوں کو لے کر شکارپور چلا گیا، اس کے پاس تبلیغی جماعت والے آئے جس پر وہ مشتعل ہو گیا اور اینٹ اٹھا کر ان کے پیچھے دوڑا اور چلایا ’کورونا سے خود تو مرو گے ہمیں بھی مارو گے۔‘

علی احمد کے مطابق ان کے دوست نے انھیں بتایا کہ جب وبا سے بچنے کے لیے سعودی عرب نے مقدس مقامات کو بند کر دیا ہے تو یہ تبلیغی گھر میں رہنے کا ثواب کما سکتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے بھی ٹوئٹر پر تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باوجود رائیونڈ سے تبلیغی حضرات ٹھٹہ، سجاول، خیرپور، لاڑکانہ اور عمرکوٹ سمیت کئی اضلاع میں ٹولیوں کی صورت میں پہنچ رہے ہیں۔

’رائیونڈ میں حالیہ اجتماع میں شریک تمام افراد کی سکریننگ نہیں ہوئی لہذا کسی میں بھی کورونا کا وائرس ہو سکتا ہے، میرے ضلع ٹھٹہ میں جو تبلیغی آئے ہیں ان میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے علاوہ ایک افریقی شہری بھی شامل ہے۔ علما کو سوچنا چاہییے کہ یہ تبلیغ کا مناسب وقت نہیں۔ تبلیغی بھائیوں کو اپنے علاقوں اور گھروں تک محدود رہنا چاہیے۔‘

تبلیغی جماعت کیا ہے؟

تبلیغی جماعت کی ابتدا ہندوستان میں سنہ 1926 یا 1927 میں ہوئی جہاں مولانا محمد الیاس نامی ایک عالم دین نے اس کام کی بنیاد رکھی۔

روایت کے مطابق ابتدا میں مولانا محمد الیاس نے دعوت کے کام کی شروعات دہلی کے مضافات میں آباد میواتی باشندوں کو دین کی تعلیم دینے سے کی اور اس کے بعد یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع سنہ 1941 میں انڈیا میں ہوا جس میں تقریباً 25 ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ 1940 کے عشرے تک یہ جماعت غیر منقسم ہندوستان تک محدود رہی لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اس جماعت نے تیزی سے ترقی کی اور اس طرح یہ تحریک پوری دنیا تک پھیل گئی۔

تبلیغی جماعت کا سب بڑا اجتماع ہر سال بنگلہ دیش میں ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں رائیونڈ کے مقام پر بھی سالانہ تبلیغی اجتماع کا اہتمام ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان شرکت کرنے آتے ہیں۔

تبلیغ کا کام کیسے ہوتا ہے؟

سندھ اور پنجاب میں تبلیغ سے وابستہ ایک کارکن احمد خان ( فرضی نام) نے بتایا کہ انھوں نے سنا تھا کہ سندھ کے دیہی علاقوں سے مساجد سے نکال دیتے ہیں یا تشدد کیا جاتا ہے لیکن ان کے ہم عصروں کے ساتھ ایسا ناخوشگوار واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سکھر، بھٹ شاہ، ہالا سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں جا چکے ہیں۔

تبلیغی جماعت سندھ کی تشکیل کراچی میں واقع مکی مسجد میں ہوتی ہے جہاں سے پورے صوبے میں ٹولیوں جاتی ہیں۔ احمد خان کے مطابق انھیں علاقوں کی پرچیاں دی جاتی ہیں جن پر مساجد کی تفصیلات درج ہوتی ہیں جہاں وہ پہنچ جاتے ہیں۔

’یہ ٹولیاں آٹھ سے دس افراد پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں دو خدمت گذار ہوتے ہیں جو کھانے پینے کا بندوست کرتے ہیں۔ یہ دس روز کا دورہ ہوتا ہے جس میں دس مساجد میں جانا ہوتا ہے۔ وہ صبح کو نکلتے ہیں پہلے گشت کرتے ہیں دکانداروں اور سڑک پر لوگوں کو دین کی تعلیم کے ساتھ مسجد آنے کی دوعت دیتے ہیں۔ صبح دس بجے مسجد میں حدیث سناتے ہیں، دو لوگ گشت پر جا کر لوگوں کو بتاتے ہیں، بعض اوقات نان مسلم کو بھی دعوت دیتے ہیں اگرچہ ہمیں غیرمسلموں کو تبلیغ نہ کرنے کی ہدایت ہے۔ جب انھیں مسجد چلنے کو کہتے ہیں تو غیر مسلم بتاتے ہیں کہ ہم غیر مسلم ہیں لیکن وہ بات پوری سنتے ہیں۔‘

مقامی تبلیغ کے بعد یہ ٹولیاں تبلیغی جماعت کے مرکز رائیونڈ روانہ ہوتی ہے جہاں تین روز گذارے جاتے ہیں۔ اخمد خان کے مطابق وہاں کار گذاری سنائی جاتی ہے کہ کس قسم کے نمازی تھے اور ان کا سلوک کیسا تھا جس کے بعد 27 روز کے لیے اگلی تشکیل ہوتی ہے جو زیادہ تر پنجاب جاتی ہے۔

مذہبی جماعتوں اور تحریکوں پر نظر رکھنے والح صحافی سبوخ سید کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کا ایک نصاب ہے جس میں ایک ’فضائل اعمال‘ اور دوسری ’فضائل صدقات‘ ہے جو دونوں مولانا محمد زکریا کی تصانیف ہیں۔

’مختلف مساجد میں مختلف اوقات میں ان کتابوں کو پڑھنے کا نام تعلیم ہوتا، کسی بھی مسجد میں نماز کے بعد یہ تعلیم ہوتی ہے۔ شہروں میں دفاتر کے قریبی مساجد میں نماز ظہر کے بعد جبکہ گاؤں دیہاتوں میں نماز عصر یا نماز عشا کے بعد فضائل اعمال پڑھی جاتی ہے جبکہ فضائل صدقات اس وقت پڑھی جاتی ہے جب یہ سارے لوگ چِلے یا شب جمعہ کے لیے جاتے ہیں۔‘

سبوخ سید کے مطابق تعلیم میں جو اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں ان کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں اور جب یہ تعلیم ہو جاتی ہے تو پھر کہا جاتا ہے کہ بھائیو، بزرگو دوستوں اصل دین جو سیکھنا ہے وہ محنت سے آتا ہے تھوڑا وقت جماعت کے ساتھ لگائیں۔

سب سے پہلے لوگوں کو شب جمعہ کے لیے تیار کیا جاتا ہے جو کہ جمعرات کی شام کو ہر ضلعے، علاقے یا تحصیل میں اس جگہ منعقد ہوتا ہے جہاں تبلیغی جماعت کا مرکز ہوتا ہے، وہاں پر سارے لوگ جاتے ہیں وہاں سے پھر رائیونڈ کا راستہ نکلتا ہے۔