رات گئے مفتی منیب الرحمن نے چاند نظر آنے کا اعلان کیا اور آج پاکستان میں عید منائی جارہی ہے۔ یہ عید ایسے دنوں میں آئی ہے جب کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان میں بھی بیماری تیزی سے پھیلتی جارہی ہے لیکن، انسانی فطرت میں ایک عجیب سی لچک ہے۔ وہی لوگ جو چند سو مصدقہ مریضوں کی خبر سن کر ردِ بلا کے لیے چھت پہ چڑھ کر اذان دے رہے تھے، آج بے فکری سے بازاروں میں گھوم رہے ہیں۔ خوف، احتیاط اور انسانی فطرت، آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔

پرسوں پی آئی اے کی عید فلائٹ کے سانحے کے بعد کتنے ہی لوگ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ موت جہاں، جیسے، جس کی، جب لکھی ہے وہ آ کے رہے گی۔ درست کون ہے، غلط کون؟ یہ فیصلہ بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اس بدقسمت فلائٹ میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو عید منانے اپنے گھر جا رہے تھے۔ رن وے کی پٹی پانچ کلومیٹر کی دوری پہ تھی اور قضا ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔ کون جانتا تھا کہ اس سفر کا انجام یہ ہوگا؟

حادثے میں بچنے والے ایک مسافر کا کہنا ہے کہ انہیں شوروغل اور دھوئیں میں ایک طرف روشنی نظر آئی اور وہ اس طرف چل دیے، بغیر سیڑھی کے جہاز سے اترنے کے لیے دس سے بارہ فٹ کی چھلانگ لگائی اور قسمت تھی کہ سوائے معمولی طور پہ جھلسنے کے کوئی بڑا زخم نہ آیا۔ ایک ایسا حادثہ جس میں کسی کے بھی بچنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، اس حادثے میں یوں معجزانہ طور پہ بچ جانے والے کو دیکھ کر کیا کہا جا سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

آپ ارطغرل دیکھیے!

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

میری دعا ہے کہ۔۔۔

گاجر بوٹی آئی جے!

اسی حادثے میں بچ جانے والے دوسرے مسافر ظفر صاحب کی سیٹ ہی جہاز سے اکھڑ کر باہر آ گئی اور ان کو بر وقت ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ بازو فریکچر ہوا مگر وہ زندہ بچ گئے۔ ہم ان واقعات کی طرف دیکھتے ہیں۔ قضا اور تقدیر پہ یقین کرتے ہیں اور انسانی کوتاہیوں کو بھلا کر پھر سے اپنی اسی روش پہ لوٹ جاتے ہیں، جہاں نہ کسی احتیاط کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی ایس او پی کی کوئی اہمیت۔ جو ہونا ہے وہ قسمت کا لکھا تھا اور جو نہیں ہوا اس کے پیچھے تقدیر کا ہاتھ ہے۔

پاکستان میں ہوائی اور زمینی حادثوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ریل کے حادثات ہوں، سڑک پہ پیش آنے والے حادثے ہوں یا ہوائی جہازوں کے گرنے کے واقعات، باقی دنیا کے حساب سے پاکستان کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ، یہ ہی ہے کہ ہم حادثے میں مر جانے والے ایک سو پانچ لوگوں کو بھول گئے اور ان دو کے بچنے پہ مطمئن ہو گئے ہیں۔ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ اور ان تحقیقات کی روشنی میں فضائی سفر کو مزید محفوظ بنا دیا جانا ہی منطقی رویہ ہے۔ مگر ہم اس رویے سے بھی کوسوں دور ہیں۔

خوش عقیدہ ہونا، کوئی بری بات نہیں۔ ذاتی طور پہ میرا مزاج تو ایسا ہے کہ پیٹر پین کی طرح مجھے بھی یقین ہے کہ جب کبھی کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے پریوں کے وجود پہ یقین نہیں ہے تو کہیں نہ کہیں ایک پری دم گھٹ کے مر جاتی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کہیں بھی کوئی بھی ان دیکھی مخلوق کسی کے بھی بد عقیدہ ہونے سے مرے لیکن کسی ان دیکھی مخلوق کی زندگی سے کسی انسان کی زندگی بہر حال اہم ہے۔

حادثات، وبائیں، ارضی و سماوی آفات، ان سب سے بچنا، بے شک انسان کے اختیار سے باہر ہے لیکن، احتیاط اور تدبیر سے بہت سی ناگہانی بلاوؤں سے بچا جا سکتا ہے۔

پچھلے دنوں میں نے جاپانی ادیب موراکامی کی ایک کہانی پڑھی جس میں عین اس وقت جب سب لوگ سمندری طوفان سے ڈرے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں، ایک بچہ اپنے دوست کو لے کر ساحل پہ پہنچ جاتا ہے۔ اسی وقت ایک بڑی سی لہر آتی ہے، وہ بچہ تو بچ جاتا ہے مگر اس کا دوست سمندر برد ہو جاتا ہے۔ اپنے دوست کی مرنے سے پہلے کی شکل اس کے دماغ میں ایسی بستی ہے کہ وہ عمر بھر کے لیے اس خوف سے نہیں نکل سکتا جو کہ اصل میں احساس جرم کی ایک شکل ہے۔

تقدیر اور معجزے برحق سہی مگر احتیاط اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ بیماری کے ان دنوں میں بلا ضرورت ادھر ادھر گھومنے سے، عید کے روز، گلے ملنے سے، بچوں کو لے کر عوامی مقامات پہ نکلنے سے، کسی بھی ایس او پی کی پروا نہ کرنے سے، بہت ممکن ہے کہ آپ تو معجزانہ طور پہ اس بیماری سے محفوظ رہیں لیکن، وائرس کے پھیلاؤ کی اس زنجیر میں ایک کڑی بننے سے آپ کا کوئی بہت پیارا، کوئی بہت قریبی،اگر اس مرض کا شکار ہو کر بچھڑ گیا تو کیا آپ کبھی اپنے آپ کو معاف کر سکیں گے؟

گو عید کے روز جانے کہاں سے مہدی حسن صاحب کا گایا ہوا گیت کانوں میں گونجنے لگتا ہے کہ ’عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیے، رسم ِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے دستور بھی ہے‘، مگر اس عید پہ یاد رکھیے گا، دنیا بدل چکی ہے۔ عید منائیں، مگر ایسے کہ اگلی کئی عیدیں بھی بغیر کسی کسک کے منا سکیں۔ آپ سب کو عید مبارک۔