انڈیا میں پولیس نے مالیاتی خدمات انجام دینے والی کمپنی سے 330 ملین ڈالر سے زائد کے مبینہ غبن کے الزام میں دو کاروباری سکھ بھائیوں کو گرفتار کیا ہے۔

شیوندر سنگھ اور ملویندر سنگھ دوا ساز کمپنی رینبیکسی کے سابق پروموٹر تھے اور کبھی انڈیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں شمار کیے جاتے تھے۔

دونوں بھائی ایک مشہور ہسپتال کی چین کے مالک بھی تھے۔

اس کیس کے سلسلے میں فنانس کمپنی سے تعلق رکھنے والے تین اہم عہدیداروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

دہلی پولیس کے اقتصادی ونگ نے جمعرات کی شام سکھ بھائیوں کو گرفتار کیا۔ ان پر دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور اعتماد میں مجرمانہ خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

فنانشل سروس فرم ریلیگئر فنویسٹ نے شکایت درج کی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ دونوں بھائیوں نے ان سے متعلق کمپنیوں یا ان کے ساتھیوں سے قرض لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس فرم نے ان کمپنیوں کو کارپوریٹ قرضے دیے تھے جو ان بھائیوں اور دیگر ایگزیکٹوز کی ملکیت تھیں۔ یہ رقم تب ان کمپنیوں کی موجودہ واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

ان کمپنیوں نے اپنے قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا تھا اور ریلیگئر فنویسٹ کو ’خراب مالی حالت‘ میں چھوڑ دیا تھا۔

سکھ بھائیوں نے ورثے میں اپنے والد کی قائم کردہ رینبکسسی لیبارٹریز کے کئی ارب ڈالرز حاصل کیے تھے۔

دوا ساز کمپنی کو سنہ 2008 میں جاپانی کمپنی داچی سانکیو کو فروخت کیا گیا تھا تاہم ان بھائیوں نے فورٹس ہیلتھ کیئر کے نام سے خاندانی ملکیت میں ایک ہسپتال کی چین چلانی جاری رکھی تھی۔

انھوں نے کئی سالوں میں دھوکہ دہی کے الزامات اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسائل کے سبب ہسپتال کی چین کا کنٹرول کھو دیا تھا۔