پاکستان کے آڈیٹر جنرل نے زکوٰۃ اور بیت المال کے فنڈز میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا ہے۔

یہ انکشاف آڈیٹر جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو سنہ 2018-19 کے مالی سال میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں ہے۔

ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل کی طرف سے زکوٰۃ کے محکمے کا آڈٹ سنہ 1986 سے جاری ہے اور اس وقت سینٹرل زکوٰۃ کونسل، صوبائی زکوٰۃ کونسل اور مقامی سطح پر قائم کی جانے والی زکوٰۃ کونسل کا آڈٹ کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ سنہ 2018-19 کے لیے سات ارب 38 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔

رپورٹ میں زکوٰۃ فنڈ میں سے 96 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کا آڈٹ کیا گیا تو اس میں سے 57 کروڑ سے زائد کی بے ضابطگیاں پائی گئیں جو کہ آڈٹ کی گئی رقم کا 60 فیصد بنتا ہے۔

مزید پڑھیے

کورونا از خود نوٹس: ’کسی نے بھی شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں جمع کروائی‘

پاکستان میں زکوٰۃ کے نظام پر کیا خدشات ہیں؟

حج پر سبسڈی حج کے فلسفے سے متصادم ہے: حکومت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس رقم کا آڈٹ کیا گیا ہے اس میں سے آٹھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم متعقلہ حکام سے بازیاب کرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت زکوٰۃ فنڈز سے جو رقم اکھٹی کرتی ہے اس میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد 93 فیصد حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے جبکہ سات فیصد وفاق کے پاس رہتا ہے۔

زکوٰۃ فنڈ میں سب سے زیادہ بے قاعدگیاں صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں

18 ویں آئینی ترمیم سے پہلے زکوٰۃ کا محکمہ وفاق کے پاس تھا اور اس محکمے کی بنیاد سابق فوجی صدر ضیا الحق کے دور میں رکھی گئی تھی۔

مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علما نے اس محکمے کی کارکردگی کو اس وقت بہتر قرار دیا تھا جب تک یہ وفاق کے پاس رہا ہے اور جب یہ محکمہ صوبوں کو تفویض کیا گیا تو پھر اس کی کاکردگی پر علما کی طرف سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

18 ویں آئینی ترمیم کے بعد زکوٰۃ فنڈ میں آبادی کے تناسب سے صوبوں کو حصہ دیا جاتا ہے جس میں صوبہ پنجاب کو57 فیصد سندھ کو24 فیصد صوبہ خیبر پختونخوا کو 14 فیصد اور رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو زکوٰۃ فنڈز میں سے پانچ فیصد حصہ دیا جاتا ہے۔

اس سات فیصد میں سے وفاق نے اسلام آباد کے علاوہ گلگلت بلستان کے لیے بھی رکھا ہوتا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جو اب صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں میں رہنے والے مستحق افراد کو بھی اسی حصے سے رقم دی جاتی ہے۔ وفاق کو جو زکوٰۃ کے سات فیصد حصے میں بھی اسلام آباد کے لیے35 فیصد فاٹا کے لیے46 فیصد اور گلگت بلتسان کے لیے 19فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

آڈیٹر جنرل آفس کے ایک اہلکار کے مطابق چونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زکوٰۃ فنڈ میں سب سے زیادہ بے قاعدگیاں صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں پائی گئی ہیں۔

اہلکار کے مطابق 57کروڑ میں سے سب سےزیادہ بے قاعدگیاں پنجاب میں پائی گئی جو کہ 24 کروڑ روپے ہے جبکہ 18کروڑ روپے سے زیادہ کی بے قاعدگییاں صوبہ سندھ میں پائی گئی ہیں صوبہ خیبر پختونخوا میں تین کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

اس کے برعکس صوبہ بلوچستان میں زکوٰۃ فنڈ میں ایک ارب روپے سے زیادہ کی رقم موجود ہے جو کہ مستحقین میں تقسیم نہیں کی گئی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زکوٰۃ فنڈ کا صوبائی ادارہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کرنے کا ذمہ دار ہے تاکہ صوبے میں غربت کی سطح کو کم کیا جاسکے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی صحت کے شعبے میں ادویات کی خریداری کے حوالے سے رولز کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے اس کے علاوہ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان بیت المال اور صوبائی حکومت کی طرف سےصحت کارڈ کے اجرا کے بعد زکوٰۃ فنڈ پر اضافی بوجھ ڈالا گیا۔

اس آڈٹ رپورٹ کے مطابق سنہ2018 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے 13 اضلاع نے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ کی رقم عشر کی مد میں اکھٹی کی جبکہ باقی 12 اضلاع نے اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔

وفاق کے حصے میں زکوٰۃ فنڈر میں سےجو سات فیصد حصہ آتا ہے وہ بھی مکمل طور پر خرچ نہیں ہونا اور ابھی بھی اس اکاونٹ میں 26 کروڑ روپے کی رقم موجود ہے جو مستحقین تک نہیں پہنچائی گئی۔

اس ضمن میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ زکوٰۃ کونسل کے چیئرمین اور اس کے ارکان کی مدت مکمل ہوچکی تھی اور نئی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی تھی اس لیے یہ رقم مستحقین تک نہیں پہنچ پائی۔

پاکستان بیت المال میں ارب سے زیادہ کی رقم کی بے قاعدگیاں

پاکستان بیت المال کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ2018 سے سنہ 2019 کے مالی سال کے دوران اس محکمے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے تھے جن میں سے تین ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

بیت المال کو دی جانے والی رقم کا مکمل آڈٹ کیا گیا ہے اور اس محکمے کو دی گئی رقم میں جو بے قاعدگیاں ہوئی ہیں وہ اس محکے کو مختص کی گئی رقم کا 62 فیصد ہے۔ اس آڈٹ رپورٹ میں47 کروڑ روپے کی ریکوری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس آڈٹ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ مستحق افراد کی مالی معاونت کے حوالے سے لوگوں کے مستحق ہونے کے بارے میں ڈیٹا کی تصدیق نہیں کی گئی اور اس ضمن میں دو ارب چالیس کروڑ روپے کی رقم کی ادائیگی کو بے قاعدگیوں کی مد میں شمار کیا گیا ہے۔

آڈیٹر جنرل کے دفتر کے اہلکار کے مطابق اس عرصے کے دوران جن افراد کو دو ارب روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی گئی ہے ان کے ڈیٹا کے بارے میں ابھی تک تصدیق نہیں کروائی گئی ہے کیونکہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو شخص بیت المال سے پیسے لے رہا ہے وہ صوبے سے زکوٰۃ فنڈ سے بھی مستفید نہ ہو رہا ہو۔

اہلکار کے مطابق قانون میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی درخواست دہندہ بیت المال کے علاوہ کسی بھی دوسرے حکومتی ادارے سے مالی امداد نہیں لے سکتا۔

سویٹ ہوم کے بچوں کے لیے فنڈ میں بے ضابطگیاں

اس آڈٹ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بیت المال کے زیر انتظام چلنے والے منصبوے سویٹ ہوم میں رہنے والے بچوں کے کھانے کی اشیا خریدنے کی مد میں بھی کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ۔

متعلقہ حکام نے آڈٹ کرنے والے حکام کو بتایا کہ سویٹ ہوم کے لیے اشیائے خورد و نوش یوٹیلی سٹورز سے خریدی گئیں تھیں تاہم بیت المال کے حکام کا یہ جواب تسلی بخش نہیں تھا کیونکہ اس حوالے سے جو دستاویزات پیش کی گئی تھیں وہ بیت المال کے حکام کی بیان کردہ ان دستناویزات کے بالکل برعکس ہیں۔

اس بارے میں آڈیٹر جنرل نے اس معاملے کی چھان بین کراونے کی سفارش کی ہے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

اس آڈٹ رپورٹ میں ملک کے 8 بڑے ہسپتالوں میں مستحق مریضوں کے لیے خریدی گئی ادویات میں 67 کروڑ روپے سے زائد کی رقم میں بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں اور ادویات خریدنے کے حوالے سے کوئی ٹینڈر بھی نہیں دیا گیا۔ اس رپورٹ میں مذکورہ ہسپتالوں کی طرف سے جو ادویات خریدی گئی ہیں ان میں پیپرا رولز کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

ڈاکٹری نسخے کے علاوہ ادویات کی خریداری

اس آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان مذکورہ ہسپتالوں کے اکاونٹ میں ادویات خریدنے کی مد میں پاکستان بیت المال کے اب تک 16 کروڑ روپے سے زیارہ کی رقم پڑی ہوئی ہے جو اُنھوں نے ابھی تک بیت المال کی فنڈز میں منتقل نہیں کی۔ اس کے علاوہ ان ہسپتالوں کے عملے نے اس عرصے کے دوران تین کروڑ روپے سے زیادہ کی ادویات ڈاکٹری نسخے کے علاوہ خریدی ہے اور اس اقدام سے نہ تو کسی مریض اور نہ ہی کسی ڈاکٹر کی نشاندہی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس اقدام کو قانون کے مطابق قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دو ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری مختلف بینکوں میں بھی کی گئی لیکن اس ضمن میں متعلقہ حکام نے کوئی کوٹیشن وغیرہ نہیں لی تھی اور نہ ہی بینکوں سے منافع کی شرح کے بارے میں کوئی بات چیت کی گئی۔

70 فیصد بے قاعدگیاں ٹھیک ہو گئی ہیں

واضح رہے کہ پاکستان بیت المال سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں سنہ1992 میں بنایا گیا تھا اور اس کو سماجی بہبود کی وزارت کے ماتحت کیا گیا تھا۔

پاکستان بیت المال کے معاملات ایک بورڈ چلاتا ہے جس کے ارکان کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے اور بورڈ کی سربراہی ایک مینجنگ ڈائریکٹر کرتا ہے جس کی تقرری بھی وفاقی حکومت ہی کرتی ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید کے مطابق ان دونوں محکموں کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں جو اعتراضات اُٹھائے گئے ہیں ان کو دور کرنے کے لیے صوبوں کو بھی کہہ دیا گیا ہے۔

پنجاب کے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل چوہدری کے مطابق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں جن بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر معاملات کو ٹھیک کرلیا گیا ہے اور صوبوں کی طرف سے اس ضمن میں ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ 70 فیصد بے قاعدگیوں کو ٹھیک کرلیا گیا ہے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے کورونا وائر س سے متعلق از خود نوٹس کے فیصلے میں ہی آئے گا۔