پاکستان کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بابر اعظم نائب کپتان ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے یہ اعلان جمعہ کے روز لاہور میں ہوئی ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ کے بعد سرفراز احمد کی کپتانی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں اور یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ قیادت میں تبدیلی آ سکتی ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے تازہ ترین فیصلے سے ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

سری لنکا کی جانب سے فواد چوہدری کے بیان کی تردید

سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی کھیلے گی

ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کرسکی تھی۔ اس عالمی مقابلے میں سرفراز احمد کی بیٹسمین کی حیثیت سے کارکردگی بھی متاثر کن نہیں رہی تھی اور وہ صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوچنگ سٹاف کے معاہدوں میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور بولنگ کوچ اظہر محمود اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہ سکے تھےاور ان کی جگہ مصباح الحق ہیڈ کوچ اور وقار یونس بولنگ کوچ بنائے گئے ہیں۔

مصباح کی سرفراز سے امیدیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کپتان سرفراز احمد سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ مصباح کو امید ہے کہ وہ سرفراز کی کپتانی میں ٹیم کو ایک بار پھر درست سمت پر گامزن کر سکیں گے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد پر کپتان کی حیثیت سے کرکٹ بورڈ نے بہت زیادہ انوسٹمنٹ کی ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر ایک ٹیم ہے جبکہ ون ڈے میں اس نے چیمپینز ٹرافی جیتی۔

حالیہ دنوں میں کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آیا ہے لیکن امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کپتان کو بھی توجہ ضرورت ہوتی ہے۔ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ان کا کام یہ ہو گا کہ سرفراز احمد میں سے ان کی بہترین کارکردگی نکال کر سامنے لائیں جیسا کہ انھوں نے ماضی میں ان کی قیادت میں دی ہے۔

سری لنکن ٹیم کا دورہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم طے شدہ پروگرام کے تحت پاکستان آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ دونوں کرکٹ بورڈز رابطے میں ہیں اور سری لنکن بورڈ کی طرف سے کوئی منفی بات سامنے نہیں آئی ہے اس نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ اپنی حکومت سے فائنل کلیئرنس لے رہا ہے اور وہ ٹیم پاکستان بھیجنا چاہتا ہے۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ اب اتنا وقت نہیں ہے کہ ان میچوں کے مقامات کو تبدیل کیا جائے۔ یہ میچز پاکستان میں ہی ہوں گے۔

یاد رہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کو اپنے وزیر اعظم کے دفتر سے یہ تنبیہ موصول ہوئی ہے کہ سری لنکن ٹیم کو پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ ہے لہذا سری لنکن کرکٹ بورڈ اس دورے کے لیے سکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لے۔

سری لنکا کی ٹیم کو 25 اپریل کراچی پہنچنا ہے۔ وہ تینوں ون ڈے انٹرنیشنل کراچی میں 27 ستمبر، 29 ستمبر اور دو اکتوبر کو کھیلے گی جبکہ تینوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز لاہور میں پانچ، سات اور نو اکتوبر کو کھیلے جائیں گے۔